🙏

استغفار اور اس کی فضیلت

اللہ کے محبوب ترین اعمال میں سے — توبہ اور اس کی طرف واپسی کا دروازہ

📿 استغفار کی صیغے

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
میں اللہ عظیم سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا، اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
× 3 تکرار 📖 رواه الترمذي وأبو داود — من قالها غُفر له وإن كان فرّ من الزحف
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد پر قائم ہوں۔ اپنے اعمال کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ تیری نعمت اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ مجھے بخش دے کہ گناہ بخشنے والا صرف تو ہے۔ (سید الاستغفار)
📖 رواه البخاري — سيد الاستغفار — من قاله صباحاً أو مساءً موقناً ومات من يومه دخل الجنة
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ — نبی ﷺ اسے ایک مجلس میں سو مرتبہ فرماتے تھے۔
× 100 تکرار 📖 رواه أبو داود والترمذي — كان ﷺ يقولها مئة مرة في المجلس
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ — یہ کفارۃ المجلس ہے۔
📖 رواه الترمذي — كفارة المجلس

✨ استغفار کی فضیلت

🌧️ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو استغفار کو لازم پکڑے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ، ہر غم سے فرج اور جہاں سے گمان نہ ہو وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے۔" — ابو داود
🌱 اللہ نے فرمایا: ﴿میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، وہ بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش بھیجے گا اور مال و اولاد سے نوازے گا﴾ — نوح:10-12
💫 نبی ﷺ ایک دن میں ستر سے زیادہ بار استغفار کرتے تھے — باوجود اس کے کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے تھے۔ — متفق علیہ